Frequently Asked Question!

ملٹی گرین آٹے میں کون کون سی چیزیں ہیں
Multigrain flour includes nine grains / parts of plants like wheat, millet, sorghum, oats, flaxseed, moringa, etc.
ملٹی گرین آٹے میں نو قسم کے اناج / پودوں کے حصہ جات ہیں جن میں گندم، باجرہ، چنے، جوار، جو، السی، سوہانجنا وغیرہ شامل ہیں
روزانہ ایک جیسا کھانا کھانے سے دل بھر جاتا ہے سوائے گندم کی چپاتی کے جس کو سال کے 365دن روزانہ تین مرتبہ کھا کربھی دل نہیں بھرتا لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ یہ ہمارے لیے فائدہ مند بھی ہے یا اس کے کوئی نقصانات بھی ہیں؟آج کل جس قدراور جس طریقے سے گندم کھائی جاتی ہے اس کے کئی نقصانات ہیں اور یہ بہت سی کمزوریوں کا موجب بن رہی ہے ، اس کا حل ملٹی گرین آٹا ہے اوراس دور میں اگر کوئی ہر کھانے میں صرف گندم ہی کھا رہا ہے تو یہ سوائے لاعلمی کے اور کچھ نہیں۔اس ضمن میں کچھ چیزوں کا علم ہونا بہت ضروری ہے۔
 گندم کے اندر ایک خاص قسم کی پروٹین پائی جاتی ہے جسے گلوٹن کہتے ہیں یہ وہی پروٹین ہے جس کے جڑنے کی صلاحیت کی وجہ سے روٹی اچھی بنتی ہے جب کہ مکئی، جَو ،باجرہ کی روٹی ویسی نہیں بن سکتی ۔ بہت سارے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس گلوٹن کو ہضم ہی نہیں کر سکتے۔ اسے گلوٹن الرجی کہتے ہیں یعنی گندم بھی ایسی خوراک ہے جس سے الرجی ہو سکتی ہے ۔ گلوٹن الرجی پیدائشی طور پر ہوتی ہے(یا عمر کے کسی حصے میں بھی ہوسکتی ہے)اور یہ ساری عمر رہتی ہے۔ اس بیماری کو Celeic Diseaseکہتے ہیں اور اس کا کوئی علاج نہیںماسوائے گلوٹن سے مکمل پرہیز کیا جائے۔
گلوٹن گند م کے علاوہ جَو اور جوی میں بھی پائی جاتی ہے اس کے علاوہ گندم میں کچھ اہم امائنو ایسڈز کم مقدار میں ہوتے ہیں لہٰذا گندم کی پروٹین کو کم معیاری پروٹین کہا جاتا ہے۔ انسانی جسم کو کم از کم نو ایسے امائنو ایسڈز چاہئیں اورجو اسے کھانے میں شامل کر ے گا تو وہ اپنی پروٹین بہتربنا سکے گا لیکن Lysineاور Isoleucineامائنو ایسڈ گندم میں قدرے کم پائے جاتے ہیں۔اگر ہم گندم کو پروٹین کے طور پر لیں گے تو مکمل پروٹین سے محروم رہیں گے۔
آج کل ایک بیماری Irritable bowel syndrome (IBS)بڑی عام ہے۔ یہ آج کل کے لیے لائف سٹائل کی وجہ سے ہے جوزیاہ دیر بیٹھنے اورغیرمتوازن خوراک کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس بیماری میں مریض کو گیس ٹربل ہوجاتی ہے اور اُسے بار بار واش روم میں جانا پڑتا ہے۔گلوٹن اور گندم کا زیادہ استعمال بھی ایک اہم وجہ ہے۔
تیسری سمجھنے والی چیز گلائسیمک انڈیکس (GI)ہے۔ GIخوراک کا ہضم ہوکر شوگر میں تبدیل ہوجانا ہے جیسے چینی کھائیں تو وہ فوراًشوگر میں بدل جائے گی اور جسم میں شوگر کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے لبلبہ کو زیادہ انسولین بنانا پڑتی ہے۔ اگر ایسی چیز کھائیں جو آہستہ آہستہ شوگر میں تبدیل ہو تو یہ صحت کے بہت اچھی ہوتی ہیں ۔شربت، پھل، مٹھائی،بیکری وغیرہ کا GIبہت زیاد ہوتا ہے۔سٹارچ نامی کاربوہائیڈریٹس جو کہ گندم اور دیگر اجناس میں  60 سے 90فیصد تک پایا جاتا ہے وہ بھی فوراً شوگر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ گندم کاGIبھی زیادہ ہوتا ہے۔ گندم آپ کسی بھی شکل میںکھائیں جیسے روٹی ، بسکٹ، نان، پاستہ وغیرہ تو وہ جسم کے اندر فوراً شوگر میں تبدیل ہو جائے گی۔ اگر آپ شوگر جیسی بیماری سے بچنا چاہتے ہیں سفید آٹے کی بجائے کمپلیکس کاربوہائیڈریٹس کھائیں ۔ جیسے قینوا ، باجرہ اور دوسری سپر فوڈز جن کے اندر کمپلیکس کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں جس سے شوگر لیول قدرے ٹھیک رہتا ہے۔ایک اور چیز ریفائنڈاور پروسیسڈ آٹا ہے۔ اگر تو پتھر کی چکی والا آٹا استعمال ہو تو اس میں اس کے اجزا ضائع نہیں ہوتے اور فائبر برقراررہتا ہے جس میں وٹامن A اور وٹامن E پائے جاتے ہیں۔مگر بازار سے جو آٹا ملتا ہے اس سے سوجی، میدہ اور فائبر وغیرہ نکال لیتے ہیں اور باقی سفید آٹے میں سٹارچ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔دیگر وٹامنز اور اجزا بھی کم مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ منرلز بھی بہت تھوڑے رہ جاتے ہیں۔ ریفائنڈ فوڈز جیسے پیز ا اور پاستہ بھی انہی میں شمار ہوتے ہیں ۔ بازار سے دستیاب سفید آٹا سوائے سٹارچ کے کچھ بھی نہیں ہے جسے کھا کر جسم کو بار بار انسولین بنانی پڑتی ہے ، گندم کی دن میں 3مرتبہ روٹی ،کیک ، بسکٹ ، فاسٹ فوڈ کھانے سے جسم کو بار بار انسولین بنانی پڑتی ہے اوررفتہ رفتہ لبلبہ کمزور ہوجاتاہے اور شوگر ہونے کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔
ایک اور چیز سمجھنے والی یہ ہے کہ ہمارے ہاں گندم کا بہت زیادہ استعمال ہے جوہمیںمنرلز اور وٹامنز زیادہ مقدار میں چاہئیں وہ اس میں کم ہوتے ہیں مثلاً کیلشیم اس میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ زنک، میگنیشیم اور پوٹاشیم بھی نہ ہونے کے برابر ہیں اور گندم کے ساتھ سبزیوں اور پھل کے  وافر استعمال سے ہی خوراک متوازن ہوگی۔ اگرگندم والی کم کوالٹی کی پروٹینزہی لی جائے تو جسم میں مکمل پروٹین نہیں بن پاتی ۔ اگرسفید آٹے کا باربار استعمال ہو تو منرلز اور وٹامنز کم ملیں گے جس سے شوگر کی مقدار بڑھ جائے گی اور شوگر اور دوسری بیماریاں بڑھنے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔اب اس کا حل کیا ہے؟ وہ یہ کہ آپ ملٹی گرین آٹا بنائیں کیونکہ روٹی تو ہم نے نہیں چھوڑنی تو کیوں نہ اس کو بہتر کر لیا جائے ۔
ملٹی گرین آٹابنانے کا فارمولا
2-3 کلوگرام گندم کا پتھر کی چکی کا خالص آٹا لیں۔ مگر چائنہ والی چکی کا آٹا استعمال نہ کریں کیونکہ اس میں فائبر جل چکا ہوتا ہے۔پھر اس میں ایک پاﺅ قینوا کاآٹا ، ایک پاﺅ باجرے کا بغیر چھنا ہوا آٹا،ایک پاﺅ بک ویٹ کا آٹا ، ایک پاﺅ جَو یاجوار کا آٹا اور ایک پاﺅ بھنے ہوئے چنے کا آٹا شامل کریں۔اب اس تمام آمیزے کو اچھی طرح مکس کرنے کے بعد اس میں 100گرام مورنگا کے پتوں کا سفوف ڈال دیں۔ایک مٹھی السی بھی شامل کریں۔ایک چمچ کلونجی اورحسب ذائقہ تل بھی ڈال دیں۔ اب اس تمام آمیزے کو اچھی مکس کردیں۔اگر وزن کم آتا ہو یا ذیابیطس کے مرض کے لیے فائبر کی مقدار بڑھانی ہو تو اس میں چوکر اور اسپغول کا چھلکا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ قصوری میتھی کا پاﺅڈر بھی ڈال سکتے ہیں۔ سب گھر والے اسی آٹے کی روٹی استعمال کریں۔ ناشتہ میں بازار کی بریڈ کی بجائے اسی آٹا کی روٹی یا پراٹھا کھائیں۔
 جو امائنو ایسڈزگندم کے اندر نہیں قینواکے اندر موجود ہیں۔ یہ اس کی پروٹین کو متوازن کر دے گی۔ اس کے علاوہ اس میں منرلز بہت زیادہ ہیں جس میں زنک ، میگنیشیم، آئرن اور کیلشیم بھی ہے۔ باجرہ میں کمپکس کاربو ہائیڈریٹس ہیں اس میں جَو اور جئی بھی شامل کریں جو سنت رسول بھی ہے یہ GIکم کرتے ہیں جبکہ مورنگا کے اندر وٹامنز ، منرلز ،پروٹینز، بائیو ایکٹو کمپاﺅنڈ ہیں جوشوگر ، بلڈ پریشر، دل ، جوڑوں کے امراض ، کولیسٹرول، جسم میں تھکاوٹ کے خلاف مفید ہیں۔ السی کے اندر ایسے OMEGA 3فیٹی ایسڈز موجود ہیں جو کہ کولیسٹرول لیول بہتر کرتے ہیں۔ 
صرف گندم کا آٹا کھانا آج کل کے دور میں سوائے لاعلمی کے اور صحت کی خرابی کے کچھ بھی نہیں ہے ۔ملٹی گرین آٹا کھانا چاہیے ۔یہ آٹا بنا ئیں اور کھائیں۔ اس کو استعمال کرنے سے پہلے اور کچھ مہینے بعد اپنا میڈیکل چیک اَپ کروائیں۔ آپ اپنی صحت میں واضح فرق محسوس کریں گے خاص طور جب لوگوں کو بلڈ پریشر ، جوڑوں اور گردوں کا مسئلہ ہو تو ان کو صرف یہی آٹا کھانا چاہیے۔ سفید آٹا استعمال کرنا بالکل ترک کردیں۔ملٹی گرین آٹا کا GI کم ہوتا ہے اور یہ جسم میں آہستہ آہستہ شوگر میں تبدیل ہوتی ہے اور شوگر کے مرض اور وزن کم کرنے میں مفید ہوتاہے۔
جدید سائنسی تحقیق کی بنیاد پر جن پودوں نے بہت اہمیت حاصل کی ہے ان میں سے ایک ”مورنگا“ ہے۔مورنگا بے حد غذائی، طبی اور صنعتی اہمیت کا حا مل پودا ہے۔ اس پودے کی مورنگا اولیفیرا(Moringa oleifera) وہ خاص قسم ہے جو دنیا بھر میں انسان اور جانور دونوں کے لیے بہت زیادہ غذائی و طبی اہمیت رکھتی ہے اور اسی وجہ سے اِسے کرشماتی پوداکہا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستان میں زیادہ تر یہی قسم پائی جاتی ہے جسے مقامی زبان میں سوہانجنا کہا جاتا ہے۔ 
مورنگا ایک اعلیٰ سپر فوڈ ہے اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں انسانی جسم کے لیے ضروری غذائی اجزا وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔غیر متوازن خوراک اور غلط کھانے پینے کی عادات کی وجہ سے جسم میں جو اہم غذائی اجزا کی کمی ہوتی ہے مورنگا میں پائے جانے والے اجزا اس کو پورا کرتے ہیں۔ مورنگا میں تقریباًوہ تمام وٹامنز، معدنیات اور آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو بہترین صحت کے لیے ضروری ہیں۔ اس کا باقاعدگی سے استعمال بچوں کی بڑھوتری میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ جوانوں کو بھرپور توانا بننے میں مدد کرتا ہے جبکہ عمررسیدہ افراد کو وہ تمام غذائی ضروریات مہیا کرتا ہے جن کی بیماریوں کے خلاف  قوت مدافعت کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔اس کا مسلسل استعمال تھکاوٹ کم کرتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں موجود خلیوں کو خراب نہیں ہونے دیتے اور کینسر جیسے موذی مرض اور دیگر بے شمار بیماریوں کو بھی روکتے ہیں ۔
غذائی اہمیت
تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ مورنگا کے تا زہ پتوں میں دودھ سے دو گنا زیادہ کیلشیم، گاجر سے چار گنا زیادہ وٹامن اے، سنگترے سے سات گنا زیادہ وٹامن سی، کیلے سے تین گنا زیادہ پوٹاشیم ، دہی سے دو گنا زیادہ پروٹین ، پالک سے تین گنا زیادہ فولاداور بادام سے تین گنازیادہ وٹامن ای جبکہ خشک پتوں کے سفوف میں گاجر سے 10گنا زیادہ وٹامن اے، دودھ سے17گنا زیادہ کیلشیم، کیلے سے 15گنا زیادہ پوٹاشیم، پالک سے 25گنا زیادہ فولاد، دہی سے 9گنا زیادہ پروٹین اور باداموں سے 12گنا زیادہ وٹامن ای پائے جاتے ہیں ۔ مورنگا کے پتوں میں 92غذائی اجزا ، 46اینٹی آکسیڈنٹس، 36مدافعاتی اجزا،38درد کش اجزا اور ضروری امائنوایسڈز پائے جاتے ہیں۔ پتوں کے علاوہ اس کے ہر حصے میں بھی بہت زیادہ غذائی اور طبی اجزا پائے جاتے ہیں۔ اس پودے کا ہر حصہ اپنی خاص خوبیوں کی بدولت بے مثال ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں کئی طریقوں سے خوراک اور ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
مورنگا کی اہمیت
کولیسٹرول:مورنگا کے اندر Caffeoylquinic acidپایا جاتا ہے جو چکنائی ہضم کرنے میں مدد دتیا ہے اور کولیسٹرول نہیں جمنے دیتا جبکہ ایک کمپاﺅنڈ Quercetin مورنگا میں وافر مقدا ر میں پایاجاتا ہے جوکہ برے کولیسٹرول کو بننے سے روکتا ہے۔ 
ذیابیطس:ذیابیطس کی ایک قسم وہ ہوتی ہے کہ جس میں لبلبہ (Pancreas) جوکہ انسولین بناتا ہے اس کے بِیٹا سیل خراب ہونے کی وجہ سے انسولین کا عمل کم ہوجاتا ہے۔ مورنگا کے اندر ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جو بِیٹا سیل کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں اور ذیابیطس نہیں ہونے دیتے جبکہ مورنگا کے اندر وٹامن سی بہت زیادہ مقدار میں پایاجاتا ہے جوکہ انسولین بنانے اور شوگر کی وجہ سے ہونے والے زخموں کو مندمل کرنے میں مددگار ہے۔مورنگا کے اندر وٹامن اے ،Lutein، Beta carotene، Zeaxanthin پائے جاتے ہیں جوکہ ذیا بیطس کی وجہ سے نظر کی کمزوری اور اندھاپن کو روکتے ہیں جبکہ وٹامن بی12ذیابیطس کے مریضوں میں ذہنی امراض کو روکنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔مورنگا کے اندر وٹامن Eاور میگنیشیم جسم کے اندر گلوکوز لیول کے بننے اور استعمال ہونے میں معاون ہوتے ہیں۔ مورنگا کی چائے اور اس کے پتوں کے سفوف کا مسلسل استعمال ذیابیطس سے بچاتا ہے اور ذیابیطس کے مرض سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر:مورنگا کے اندر کیلشیم، میگنیشیم،پوٹاشیم اور وٹامنEپائے جاتے ہیں جوکہ ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں معاون ہوتے ہیں جبکہ Nitrile، Glycoside بلڈپریشر کو کم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں علاوہ ازیں Benzyl Isothiocyanate اور Benzyl Glucosinolate بلڈ پریشر کی وجہ سے ہونے والے ذہنی تناﺅ کو قابو میں رکھتے ہیں۔ 
جوڑوں کا درد اور گنٹھیا:مورنگا خاص طو رپر جوڑوں کے درد اور گنٹھیا میں بہت مفید ہے۔مورنگا کے پتوں اور بیج کے اندرCOX 2 Inhibitorsپائے جاتے ہیں جوکہ درد کش ہیں اور جوڑوں میں سوزش نہیں ہونے دیتے۔ علاوہ ازیں مورنگا میں 38دردکش اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔ 
بے خوابی:مورنگا کی چائے بے خوابی میں بھی بہت معاون ثابت ہوتی ہے۔مورنگا کے اندر Tryptophan،Iron، رائبو فلیون اور وٹامن بی6 پائے جاتے ہیں جوکہ SerotoninاورMelatoninکو پیدا کرتے ہیں جوکہ ذہنی تناﺅ اور بے چینی کو کم کرکے پرسکون نیند کا باعث بنتے ہیں۔
جلدی امراض اور رنگت:مورنگا کے پتوں کے اندر Zeatin نامی ایک کمپاﺅنڈ پایاجاتا ہے جوکہ جلد کے سیل کو دھوپ، UVاور بڑھاپے کی وجہ سے تباہ ہونے سے بچاتا ہے اور تباہ شدہ سیل کی جگہ پر نئے سیل بنادیتا ہے ۔اس طرح چہرے پر جھریوں کے عمل کو کافی حد تک کم کردیتاہے جبکہ دھوپ کے اثرات کی وجہ سے خراب رنگت کو بھی بہتر کردیتا ہے ۔مورنگا کے تازہ پتے ،خشک پتے کے ماسک کے طور پر استعمال سے رنگت گوری اور جلد ملائم ہوجاتی ہے جبکہ مورنگا کے بیج کو تیل بھی چہرے اور ہاتھوں کی جھریوں اور رنگت کو بہتر کرنے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
مورنگاکاتیل:مورنگا کا تیل، کوالٹی میں بہت عمدہ اور زیتون کے تیل کے برابر ہوتا ہے اور اسے کھانے کے تیل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ تیل میک اپ کے سامان کی تیاری اور مہنگی گھڑیوں میں Lubricantکے طور پر استعمال ہے۔
پینے والے پانی کی صفائی:چُٹکی بھر مورنگا کے بیج کا پاﺅڈر ایک جگ پانی کو پینے کے قابل بنادیتا ہے۔مورنگا کے بیج کا پاﺅڈر نہ صرف پانی کے اندر جراثیم کو ماردیتا ہے بلکہ پھٹکڑی کی طرح اسے صاف بھی کردیتاہے۔ مورنگا کے پتوں، پھولوں، پھلیوں ، جڑوں اور گوند میں بے شمار ایسے کمپاﺅنڈ پائے جاتے ہیں جوکہ جراثیم کش ہیں اور قدرتی اینٹی بائیوٹک،اینٹی مائیکرو بیل، اینٹی فنگل اور اینٹی کینسر کا کام کرتے ہیں۔
مورنگا بطور چارہ:مورنگا کے پتے نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے لیے بھی بہترین غذا ہیں۔5-4کلوتازہ چارہ یا 200-100گرام مورنگا کے خشک پتوں کا سفوف ونڈے یا چارے میں مکس کر کے دنیے سے نہ صرف جانوروں کا دودھ اور وزن بڑھ جاتا ہے بلکہ ان کی صحت بھی بہتر ہو جاتی ہے۔
قدرتی گروتھ ریگولیٹر:مورنگا فصلوں کے لیے ایک لاجواب گروتھ ریگولیٹر ہے، مورنگا کے خشک پتوں کا سفوف محلول بنا کربطور سپرے فصلات میں استعمال کیاجاتا ہے۔ اس سے تقریباً تمام فصلوں اور سبزیات میں 15سے 35 فیصد پیداور میں اضافہ ہو جاتا ہے اور کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کا حملہ بھی کم ہو جاتا ہے۔
مورنگاکاطریقہ استعمال
مورنگا کا ہر حصّہ اہم ہے اور غذائی ، طبی اور صنعتی افادیت میں ایک سے بڑھ کر ایک ہے مثلاً پھول، کچی پھلیاں، پھلی، بیج، تیل ، پتے، گوند، جڑاور چھال۔
پتے
مورنگا کے تازہ یا خشک پتوں کا قہوہ دنیا بھر میں استعمال ہوتا ہے ۔جسے الائچی ، لیموں اور شہد کے ساتھ خوش ذائقہ بنایا جاسکتا ہے۔2-1مورنگا ٹی بیگ روزانہ استعمال کرنے سے جسم میں چستی ، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے اور وزن میں تیزی سے کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ ٹی بیگ کی شکل میں مورنگا کی چائے اب مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہے۔
مورنگا کے پتے چونکہ زیادہ مقدار میں دستیاب ہوتے ہیں تو سب سے زیادہ استعمال اور مارکیٹنگ بھی پتوں کی ہی ہوتی ہے ۔مورنگا کا سب سے زیادہ فائدہ اس کو بغیر پکائے استعمال کرنا ہے۔
تازہ پتے بطور سلاد استعمال کئے جاسکتے ہیںمگر ذائقہ قدرے کڑوا ہوتا ہے۔اگرایک مُٹھی مورنگا کے تازہ پتوں کے ہمراہ کچھ پودینے کے تازہ پتے اور حسب پسند پھل اورکھجور شامل کر کے شیک بنا لیں اور حسبِ ذائقہ لیمن، کالی مرچ، نمک، شہد یا سٹیویا شکر کو شامل کر لیں تو یہ ایک بہترین ڈرنک ہے۔ چونکہ تازہ پتے ہر کسی کو دستیاب نہیں ہوتے تو پتوں کا سفوف بنا لیا جاتا ہے۔مورنگا کے تازہ پتوں کو دھوپ میں خشک نہیں کیا جاتا کیونکہ سورج کی شعائیں اس میں موجود بائیو ایکٹو کمپاﺅنڈ ، فینولک ایسڈاور وٹامنز کو نقصان پہنچاتی ہیں۔سفوف کے لیے مورنگا کے پتوں کو چھاﺅں میں یا پھر Air oven میں مکمل خشک کر کے پاﺅڈر بنا کر ہوا بند جار میں محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ روزانہ صبح وشام ایک ایک چائے کا چمچ مورنگا پاﺅڈر پانی میں حل کرکے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر ذائقہ پسند نہ آئے توبازار سے مورنگا کے کیپسول خرید لیں یا اچھی کوالٹی کے خالی کیپسول میں پاﺅڈر بھر کے ایک نہار منہ اور ایک رات کو استعمال کر لیا جائے ۔ شوگر، بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور جوڑوں کے درد کے لیے مورنگا پاﺅڈر کی خوراک 4تا5گرام تک ہے جس کو بیماری کی شدت کے حساب سے زیادہ یا کم کیا جاسکتا ہے ۔ مورنگا پاﺅڈر کو دودھ، لسی اور دہی وغیرہ میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔مورنگا صرف ایک فوڈ سپلیمنٹ ہے مکمل دوا نہیں ہے لہٰذا دوا کا استعمال حسبِ ضرورت ساتھ جاری رکھیں۔
پھلی اور جڑ
پھلیاں اور مولیاں اچار کے لیے استعمال ہوتی ہیں مگر اچار میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے او ریہ تیزابی حالت میں ہوتا ہے تو کسی قسم کا بھی اچار صحت کے لیے مفید نہیں ہوتا۔ وسطی پنجاب میں سوہانجنا کا روایتی استعمال اس کی جڑسے تیار کردہ مولی کا اچار ہے مگر یہ کوئی زیادہ صحت بخش نہیں کیونکہ ایک مرکب Morigninاس میں پایا جاتا ہے جس کی زیادہ مقدار انسانی صحت کے لیے مفید نہیں۔کبھی کبھار ایک آدھ پھانک کھا لینے میں کوئی حرج نہیں۔
پھول اور ڈوڈیاں
جنوبی پنجاب میںپھولوں کا بُور یا ڈوڈیو ں کا سالن بہت شوق سے کھایا جاتا ہے ۔ چونکہ یہ بہت کڑوی ہوتی ہیں اس لیے استعمال سے قبل انہیں 3-4دفعہ پانی میںاُبال کراس کی کڑواہٹ کو ختم کیاجاتا ہے ۔جس سے ان کی طبی اور غذائی اہمیت بہت کم ہوجاتی ہے لہٰذا مورنگا کے درج بالا فوائد اس طریقے سے بہت کم حاصل ہوتے ہیں۔
مورنگا کی کاشت
وقت کاشت
مورنگا کی فصل سال میں دوبار15فروری سے یکم اپریل اور15جولائی سے 15ستمبر تک کاشت کی جاسکتی ہے۔
گھریلو پیمانے پر مورنگا کی کاشت
گھریلو پیمانے پر مورنگا بیج 4×9تھیلی کے اندر کمپوسٹ کھا د ڈال کربیج کو ایک انچ گہرا دبائیں اور حسب ضرورت پانی دیتے رہیں۔تھیلی کے نیچے پانی کے اخراج کے لیے 2-3 سوراخ رکھیں۔ جب پودا 3-4 فٹ کا ہوجائے تواسے تھیلی سے زمین میں گڑھا کھود کر کمپوسٹ ڈال کر منتقل کردیں۔ تھیلی سے زمین میں منتقلی کے لیے موسم بہار اور مون سون بہترین موسم ہیں۔
تجارتی پیمانے پر کاشت
مورنگا کی کاشت بطور درخت
تجارتی پیمانے پرمورنگا کی کاشت قلموں کی بجائے بیج اور نرسری کے ذریعے کی جاتی ہے جبکہ جنوبی پنجاب میں قلموں کے ذریعے کاشت بھی بہت مقبول اور کامیاب ہے جہاںتین سے چار فٹ پختہ ٹہنی کے ذریعے مورنگا اُگایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ پورے پاکستان کے برفباری والے علاقوں میں ٹہنی کے ذریعے مورنگا کاشت کرنا موزوں نہیں۔ایک ایکڑ میں 10×6فٹ سے 726درخت لگائے جاسکتے ہیں۔
مولیوں کے لیے مورنگا کی کاشت
مولیوں کے حصول کے لیے مورنگا بیج کو قطاروں میں بوئیں جن کا درمیانی فاصلہ تین فٹ اور پودوں کا درمیانی فاصلہ کم سے کم ہو کیونکہ زیادہ فاصلہ مولیوں کی کوالٹی کومتاثر کرتا ہے۔ مورنگا کی جولائی سے اگست تک کاشت کی جاتی ہے۔جب پودے 5فٹ کے ہوجاتے ہیں تو پانی لگا کر پودے زمین سے نکال لئے جاتے ہیں ۔ان کی جڑ کو سوہانجنا کی مولی کہتے ہیں جس کی فوڈ انڈسٹری اور منڈی میں اچار کے لیے مارکیٹ ہے۔ 
 مورنگا کی کاشت بطور پتے اور چارہ
 زمین میں 50سینٹی میٹر گہرا ہل چلائیں ۔ صاف ستھرااور اچھی کوالٹی کا مورنگا بیج بوائی سے پہلے 8گھنٹے پانی میں بھگوکر رکھیں ۔کیاریوں پر کاشت کی صورت میں 30سینٹی میٹر اونچی کیاریاں بنائیں تاکہ پودوں کو یکساں پانی ملے۔ کیاریوں کا درمیانی فاصلہ2سے3 فٹ ہو جبکہ پودوں کا درمیانی فاصلہ ایک فٹ رکھاجائے۔ مورنگا کی کاشت کے لیے کھادوں کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم کچھ زمینوں میں کاشت کے دوران گوبر کی کھاداستعمال کی جاسکتی ہے۔ جب فصل کی اونچائی 3 فٹ تک پہنچ جائے تو پودے کواوپر اور سائیڈوں سے مکمل کاٹ دیاجائے۔ ان پودوں سے سال میں 5 تا 7 مرتبہ تازہ پتے حاصل کئے جاسکتے ہیں جبکہ سردیوں میں اس کی بڑھوتری رُک جاتی ہے۔ مورنگا کے تازہ چارہ کو دوسرے چارہ جات کے ساتھ مکس کرکے استعمال کرنا چاہیے۔مورنگا پتوں سے جانوروں میں دودھ کی پیداوار میں 10-15فیصد تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔مورنگا کے پتے تجارتی طور پر مورنگا کی چائے یا پاﺅڈر اور دیگر مصنوعات بنانے کے کام آتے ہیں۔
 
پراسیسنگ
گھریلو پیمانے پر مورنگا کے پتوں کو خشک اور سایہ دار جگہ پر اچھی طرح سوکھا کریا اس کو کوٹ کر یا گرائنڈر میں پیس کرپاﺅڈر ہوادار برتنوں میں محفوظ کرلیا جاتا ہے۔تجارتی بنیادوں پر مورنگا کے پتوں کو خشک کرنے کے لیے ایک باقاعدہ ڈی ہائیڈریشن یونٹ چاہیے جس میں 50درجہ سینٹی گریڈ پر خشک ہوا کو اچھی طرح پھیلائے ہوئے پتوں سے گزارا جاتا ہے اس طرح 4سے6گھنٹوں میں پتے خشک ہوجاتے ہیں ۔ خشک پتوں میں نمی کا تناسب 7فیصد سے کم رہنا چاہیے۔ ایسے پتوں کا گرائنڈر میں پیس کر پاﺅڈر بنالیا جاتا ہے جس سے کیپسول، گولیاں و دیگر طبی کاسمیٹکس مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ اگر پتوں کو دھوپ میں خشک کیاجائے تو ان کی طبی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔گرم مگر مرطوب یا ٹھنڈے موسم میں خشک کرنے سے پتے مکمل طور پر خشک نہیں ہوپاتے اور زیادہ نمی کی وجہ سے ان میں پھپھوندی اور کیڑے مکوڑوں کا حملہ ہوسکتا ہے اور ایسے پتے فائدہ کی بجائے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔
آج کل صحت کے لیے قدرتی خوراک پر انحصار بڑھ رہا ہے ۔ان میں ایک خوراک سپر فوڈ ”چیاسیڈ‘ ہے اس کا تعلق پودینے کے خاندان سے ہے۔ یہ ہزاروں سال قبل امریکہ میں کاشت کیا جاتا تھا ۔پرانے زمانے میںجنگ کے دوران افواج کی خوراک میں چیا کا استعمال کیاجاتا تھا تاکہ ان کی توانائی برقرار رہے۔2009ءمیں یورپی یونین نے چیا کو بطور بنیادی خوراک منظور کر کے اجازت لی ہے کہ خوراک کا 5فیصدحصہ چیا کے بیج پر مشتمل ہونا چاہیے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر چیا کو مقامی استعمال اور برآمد کرکے ایک نقد آور فصل کے طور پر متعارف کروایا جا رہا ہے۔
نباتاتی خصوصیات
چیا کے پودے پر مخالف سمت میں پتے اور شاخیں نکلتی ہیں اس کا قد اڑھائی سے تین فٹ تک ہوتا ہے اور اس کی ہر شاخ اور مرکزی تنے پر شگوفہ ہوتا ہے۔ ہر سٹہ پر موسم بہار میں گچھوں کی شکل میں جامنی اور سفید رنگ کے چھوٹے چھوٹے پھول نکلتے ہیں۔ اس کا پتا پودینے کے پتے کی طرح ہوتا ہے۔
غذائی استعمال
اس کے بیجوں میں دوسرے غذائی اجناس سے کہیں زیادہ اومیگا تھری، کیلشیم، اینٹی آکسیڈنٹ اور معدنیات کہیں زیادہ بہتر مقدار میں موجود ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ وٹامنز ، نمکیات کا بھی قدرتی ذریعہ ہے اورسب سے بڑھ کر یہ گلوٹن سے پاک ہے۔ اپنی خصوصیات کی بنیاد پر اسے سپر فوڈ کا درجہ دیا گیا ہے ۔ یہ ایک مکمل غذا ہے جس کی مدد سے غذائیت کی کمی کو دور کیا جاسکتا ہے اس سے نکلنے والا تیل کینولہ اور سویا بین کی نسبت زیادہ مفید ہے۔کیونکہ اس میں موجود او میگا تھری ، قلب کے امراض، کینسر اور دماغی سٹروک جیسی بیماریوں کے علاج میں معاون ہے۔دوچمچ چیا سیڈ میں کیلے سے 64گنازیادہ پوٹاشیم، بلیوبیری سے دو گنا زیادہ اینٹی آکسیڈنٹ ، دودھ سے پانچ گنازیادہ کیلشیم، سالمن مچھلی سے 100گنازیادہ اومیگا 3اور پالک سے تین گنا زیادہ آئرن موجود ہوتا ہے۔
طبی استعمال
چیا میں بہت سی بیماریوں کے قدرتی بچاﺅ کے فوائد درج ذیل ہیں:
اس کے بیج اپنے وزن سے کئی گنا زیادہ پانی جذب کرلیتے ہیں جوکہ انسان کو اس صورت حال سے نمٹنے اور ڈی ہائیڈریشن سے بچاتے ہیں جب پانی کی دستیابی نہ ہواور یہ نظام انہضام کو تقویت بخشتا ہے اور بہتر بناتا ہے۔اس میں موجود اومیگا3فیٹی ایسڈ ز غذائیت کے اعتبار سے صحت کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں خاص طور پر ان افراد کے لیے جو کہ قلب، ذیابیطس اور مدافعاتی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔جسم کو باقاعدہ کام کرنے اور صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ وٹامنز،معدنی اجزا(منرلز)،اینٹی آکسیڈنٹس/کینسر کے امکانات کو کم کرنے والے اجزا پروٹین اور فائبر کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ چیا کے بیج میں پائے جاتے ہیں۔یہ خون میں شوگر کی مقدار کو مستحکم رکھتے ہیں لہٰذا ذیا بیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔چیا کے سبز پتوں کو نیم گرم پانی میں کچھ دیر کے لیے بھگو کررکھنے سے ایک ہربل قہوہ بنتا ہے جو موٹاپے کو دور کرتا ہے۔یہ جسم کی آنتوں کو نرم رکھتا ہے اور انہیں خشک ہونے اور تنگ ہونے سے بچاتاہے جس کی وجہ سے قبض نہیں ہوتی۔اس کے بیج خون کی ایک خطرناک بیماری انیمیا کے علاج میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔اس کی غذائیت زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ دوسری خوراک سے زیادہ توانائی فراہم کرتا ہے اور یہ مشقت بھرے کاموں کے لیے ضروری توانائی مہیا کرتے ہیں۔اس کے علاوہ مرغیوں اور برائلرز کے گوشت کی کوالٹی کو اچھابنانے کے لیے ان کی غذا میں بھی چیا کے بیج شامل کیے جاتے ہیں۔یہ بھوک کو بھی کم کرتے ہیں کیونکہ یہ زیادہ دیر تک معدے میں رہتے ہیں اور اسی طرح زیادہ دیر تک ان میں سے توانائی نکلتی رہتی ہے اور دوسری بڑی وجہ ان میں صحت بخش تیل ہے جس کی وجہ سے یہ زیادہ لمبے عرصے کے لیے توانائی فراہم کرتے رہتے ہیں۔اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جس میں موجود نقصان دہ کیمیکلز اور اجزاکے اثر کو زائل کردیتے ہیں اور اس کے علاوہ بڑھاپے کے عمل کی رفتار کو بھی کم کرتے ہیں اور چہرے کو تروتازہ رکھتے ہیں۔اس میں موجود کیلشیم، فاسفورس، میگنیشیم وغیرہ ہڈیوں کو مضبوط بناتے ہیں اور عمر رسیدہ عورتوںمیں گھٹنوں اور پٹھوں کے امراض سے بھی بچاتے ہیں۔دماغ کی کارکردگی کو بھی بہتر بناتے ہیں جوکہ ایک اچھا حافظہ رکھنے کی ضمانت ہے۔چیا کے بیج کو دودھ اور ہلدی میں شامل کرکے گولڈن ڈرنک بنایا جاتا ہے جوکہ وزن کم کرنے میں کافی معاون ہے۔
بائیو ایکٹو کمپاﺅنڈ
اس میں موجود کیرو سیٹن تقریباً 300سے زائد بیماریوں کے خلاف کام کرتا ہے ۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری ایجنٹ کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔کیمفرول ایک اینٹی کینسر ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ لیفک ایسڈ کیفینول کو ایکٹو کرتا ہے اور کینسر کے مخالف کام کرتا ہے۔مائبر یسٹین دل کی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت فراہم کرتا ہے۔ 
چیا کا طریقہ استعمال
چیا کو استعمال کرنے کے بے شمار طریقے ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ اس کومشروب کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق انسان کو 24گھنٹے کام کرنے کے لیے ذہنی قوت و طاقت چاہیے ہوتی ہے وہ اس کے بھگوئے ہوئے بیج کے 2چمچ کھانے سے کافی حد تک حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کے بیج اپنے وزن سے کہیں زیادہ پانی جذب کر لیتے ہیں جو پانی کی کمی سے بچاتے ہیں۔2چائے کے چمچ چیا بیج کو پانی کے ایک گلاس میں1-2گھنٹے بھگو کر رکھتے ہیں یا پھر آدھ گھنٹہ گرم دودھ میں بھگونے سے مکمل طور پر پھول جاتے ہیں۔ اس طرح پھولے ہوئے چیا کو دودھ ،پانی یا دیگر مشروبات میں شامل کرکے پیا جاتا ہے یا پھر دہی، سلاد یا سویٹ ڈشوں میں ملا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
چیا ہرگز ہرگز تخم ملنگاں یا تخم بالنگو نہیں ہے۔آج کل سوشل میڈیا پر چیا کو تخم ملنگاں کے طور پر پیش کیاجارہا ہے جو کہ ایک غلط پروپیگنڈہ ہے۔چیا کی غذائی اور طبی افادیت تخم بالنگو سے کہیں زیادہ ہے۔
طریقہ کاشت
چیا کی کاشت کے لیے مَیرا زمین زیادہ موزوں ہے جس میں پانی زیادہ دیر تک کھڑا نہیں ہوتا ۔ اس کی کاشت اکتوبرکے پورے مہینے میںکی جاسکتی ہے ۔ درجہ حرارت20-25 ڈگری سینٹی گریڈ موزوں ہوتا ہے تقریباً3-4کلو گرام فی ایکڑ بیج درکار ہوتا ہے بیج کو زمین میں کھیلیاں بنا کر ہاتھوں کی مدد سے چوپہ لگا کر بویا جاتاہے ۔ کھیلیوں کے درمیان فاصلہ اڑھائی فٹ جبکہ پودوں کے درمیان فاصلہ آدھا فٹ رکھا جاتا ہے۔ فصل کو 3-4پانی درکار ہوتے ہیں ۔ چیا ایک چوڑے پتوں والی فصل ہے اس لیے اس پر زیادہ تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی سپرے تجویز نہیں کی گئی ۔ ہاتھوں کی مدد سے 2-3گوڈیاں کرکے جڑی بوٹیوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ NPK 50:20:20فی ایکڑ کھاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ چیا کی فصل مئی کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں تیار ہو جاتی ہے۔اس فصل کا مکمل دورانیہ 6سے7مہینے تک ہوتا ہے۔
پاکستان میں تعارف
2016ءمیں چیا کو لیب برائے متبادل فصلات ،زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد کی طرف سے متعارف کروایا گیا اور اب اس کی مزید لائنوں پر مختلف تجربات جاری ہیں۔ اس کا بیج لیب برائے متبادل فصلات ،زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی منافع بخش فصل ہے جسے باہر کے ممالک سے درآمد کرکے کثیر زرمبادلہ کمایاجاسکتا ہے۔ا س سے ہمارے کسان بھائیوں کو ایک اچھی آمدن مل سکتی ہے اور ملک و قوم کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کیاجاسکتا ہے جبکہ وزن کم کرنے کے لیے اور صحت مند زندگی کا ادراک رکھنے والے احباب میں چیا بہت مقبول ہورہا ہے اور درآمد شدہ مقامی مارکیٹ میں دستیاب ہے۔

Qunioa is considered a super food. Its washed grains have great benefits especially for the individuals who have gluten issues because it is gluten free unlike wheat, rice, etc having a wide variety of nutritional ingredients like proteins, minerals, vitamins, etc. Its equally good for healthy and unhealthy individuals suffering from nutrintional and metabolic disorders due to its unique phytochemical content. Quinoa can be used as routine diet as combination with or as replacement of rice, bread, dalia,  and as an ingadient in vegetable and fruit salads, sweet dishes, etc. Its considered as one of the favorite diets of health and firness conscious people. For its little bitterness, it is washed before consumption to remove saponins. Therefore, label of WASHED QUINOA be seen before use.

قنواہ کیا ہے اور اس کے کیا فوائد اور استعمال ہیں

قنواہ کو ایک سپر فوڈ کے نام سے جانا جاتا ہے – اس کے دانوں کو دھو کر استعمال کیا جاتا ہے – قنواہ بمقابلہ گندم اور چاول غزایئت میں بہتر ہے گلوٹن فری ہونے کی وجہ سے نظام ہاضمہ او دیگر میٹابولک مسائل کے لئے بہترین غزا ہے – اپنے مخصوص نباتاتی کیمیکلز کی وجہ سے بلاتمیز صحتمند اور شوگر ، بلڈ پریشر ، کولیسٹرول وغیرہ کا عارضہ رکھنے والے خواتین و حضرات کے لئے سود مند ہے – جسمانی فٹنیس کے کلینکس میں ماہرین کی طرف سے بطور غزا استعمال کی سفارش کی جاتی ہے

پچھلے کچھ عرصہ سے روایتی فصلوں کی بجائے سائنسدانوں کا رجحان نئی فصلوں کو متعارف کروانے کی طرف ہو چکا ہے ۔ ان میںسے ایک فصل قینوا ہے جو کم پانی ، کلراٹھی زمین ، موسمی تبدیلیوں کی سختیاں برداشت کرنے ، کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کے حملوں سے محفوظ رہنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھنے کی بنا پر دنیا بھر میں مشہور ہے۔قینوا کے بیج کو بطور جنس گندم اور چاول کے متبادل استعمال کیا جاسکتا ہے۔قینوا میں غذائی اجزا گندم ،چاول اور مکئی سے کہیں زیادہ پائے جاتے ہیں۔قینوا کو اجناس کی ماں بھی کہتے ہیں۔اقوامِ متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن( FAO)نے قینوا کو مستقبل میں غذااور غذائیت کی کمی دور کرنے والی بہترین غذا قرار دیا ہے جبکہ NASAنے اسے فضا میں لے جانے والی سب سے بہترین خوراک قرار دیا ہے۔قینوا کاآبائی علاقہ لاطینی امریکہ خاص طور پر پیرو، بولیویا ، میکسیکو اور چلی وغیرہ ہیں لیکن اب پاکستان سمیت دنیا بھر میں بھی یہ ایک غذائیت سے بھری اناجی فصل کے طور پر کاشت کی جارہی ہے۔
غذائی و طبی اہمیت
اگرچہ قینوا کے تازہ پتے سبزی کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں مگر اس کابیج اناج کے طور پر زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ گندم اور جَو میں ایک گلوٹن نامی پروٹین پائی جاتی ہے جوکہ کئی بیماریوں کا باعث ہے اور کچھ لوگ اس کو ہضم نہیں کرسکتے۔قینوا کے بیج مکمل طور پر گلوٹن سے پاک ہیں۔قینوا میں 13-16فیصد پروٹین پائی جاتی ہے جوکہ تقریباً مکمل پروٹین ہے کیونکہ اس میں Lysineاور Methionine بھی پائے جاتے ہیں جوکہ گندم بہت کم ہوتے ہیں۔ قینوابیج میں صحت بخش چکنائی بھی پائی جاتی ہے اور قدرتی طور پر Vitamin Eبھی پایاجاتا ہے جوکہ چکنائی کو خراب ہونے سے بچاتا ہے۔ قینوا کے بیج میں Squaleneنامی چکنائی پائی جاتی ہے جو نہ صرف جراثیم کش اور اینٹی آکسیڈنٹ ہے ۔یہ دل کے پٹھوں کو مضبوط کرتی ہے اور کینسر سے بھی بچاتی ہے۔ قینوا میں Phytosterolsبھی اچھی مقدار میں پائے جاتے ہیں جو LDLیابُرے کولیسٹرول کو کم کر کے دل کے پٹھوںکو توانا کرتے ہیں ۔قینوا کے اندر گندم اور چاول سے زیادہ مقدار میں Phantothenic acid, Quercetin, Kaempferolپائے جاتے ہیں جوکہ کینسر سے بچاتے ہیں۔ قینوا میں صحت بخش Mineralsکا خزانہ ہے ۔خاص طور پر پوٹاشیم، مینگنیر،کاپر،زنک،فاسفورس اور میگنیشیم اچھی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ قینوا میں وٹامن B6اور فولیٹ اس قدر زیادہ ہیں کہ 100گرام قینوا دن بھر کی توانائی کو پورا کردیتا ہے۔ قینوا کے بیج میں دافع سوزش اور دردکش اجزا بھی اچھی مقدار میں پائے جاتے ہیں جیسا کہ Hydroxycinnamic acidاور Hydroxybenzoic acid۔
موٹاپے،ذیابیطس،امراض قلب اور کولیسٹرول کے لیے بہترین غذا
چونکہ قینوا کے اندر غذائی اجزا فائبر، مفید چکنائی،بے شمار Cenolics اور دیگر اجزا اچھی مقدار میں پائے جاتے ہیں جوکہ دل اور اس کی شریانوں کو مضبوط بنانے ، موٹاپے کو کم کرنے،کولیسٹرول گھٹانے اور ذیابیطس کے مریضوں کاشوگر لیول قابو میں رکھنے لیے نہایت مفید ہیں علاوہ ازیں قینوا کا Glycemic Index (خوراک کا شوگر میں منتقل ہونا) گندم ، چاول اور دیگر اجناس سے بہتر ہے جو جسم میں تیزی سے شوگر لیول نہیں بڑھنے دیتا۔
قینوا میں بیٹا کیروٹن ایک ایسا وٹامن ہے جو ہمارے جسم سے ان زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے اور وقت سے پہلے بڑھاپے کا باعث بنتے ہیں۔بیوٹا ریٹ(Butyrate) شریانوں میں خون کی فراوانی میں رکاوٹ کو ختم کرتا ہے جبکہ سکینیک ایسڈیہ نظام انہضام کو بہتر کرنے میں مدد دیتا ہے۔
قینوا میں9 فیصد انسانی صحت کے لیے نہایت مفید تیل بھی پایاجاتا ہے جس میں اومیگا 3،اومیگا6 اور اومیگا9 شامل ہیں جو دل اور شریانوں کے لئے مفید ہے۔
قینوا کا استعمال
استعمال سے پہلے قینوا دھونے کا طریقہ
قینوا خریدتے وقت اچھی طرح چیک کرلیں کہ اس پر Ready to Use کا لیبل ہو جوکہ مخصوص طریقے سے دھوکر، خشک کرکے مارکیٹ کیاجاتا ہے اگر براہِ راست زمیندار سے خریدا ہو تو پھر اس کو خاص طریقے سے دھونا ضروری ہوتا ہے کیونکہ قینوا کے بیج کے اوپر ایک صابن نما تہہ موجود ہوتی ہے جو کہ بیج کو کڑوا بناتی ہے۔ اسے سیپونن کہتے ہیں۔پکانے سے پہلے بیج کو اچھی طرح دھو کر سیپونن کو اتارالیاجاتا ہے۔ قینوا کے بیج کو دھونے کا طریقہ بہت آسان ہے۔ اس کو پانی میں ڈال کر 4سے5دفعہ رگڑ کر دھونے سے اس کا سیپونن اتر جاتا ہے پھر اس کو دوبارہ پانی میں ڈال کر پانی کی سطح پر ہاتھ ماریں اگر ابھی بھی جھاگ بن رہی ہو تو اس کو مزید دھوئیں جب تک اس کی جھاگ ختم نہ ہوجائے۔ اس کے بعد اس کو اُبلتے پانی میں ایک سے دو منٹ کے لیے رکھیں اس کی باقی کڑواہٹ بھی نکل جائے گی۔اب اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
قینواپلاﺅ بریانی
قینوا کو چاول کی طرح یا چاول کے ساتھ مکس کرکے اور روایتی طریقے سے چاول کی طرح پلاﺅ یا بریانی بنائی جاتی ہے۔ حسب ذائقہ چاول اور قینوا دونوں کو مکس بھی کیا جاسکتا ہے جیساکہ آدھا قینوا اورآدھے چاول،اس طرح ذائقہ چاول کا مگر غذائیت بہت زیادہ ہوجاتی ہے یا پھر قینوا بھی اب چاول کی طرح پکایاجاتا ہے۔
قینوا بطور اُبلے چاول
قینوا کو اُبال کر اُبلے چاولوں کی طرح دودھ، دہی ،شکر،سالن یا دال ڈال کر بھی چاول کی طرح کھایا جاتا ہے۔
قینوا کی روٹی
بازار سے قینوا کا آٹا بھی دستیاب ہے جس کی نہایت مزیدار روٹی یا پراٹھا بنتا ہے جبکہ حسب ذائقہ قینوا کے آٹے کو گندم کے آٹے کے ساتھ مکس کرکے روٹی بھی بنائی جاتی ہے۔جس کا ذائقہ گندم جیسا اور غذائیت زیادہ ہوتی ہے۔
قینوا بطور دلیہ
اُبلے ہوئے قینوا میں دودھ یا دہی اور حسب ذائقہ میٹھا ڈال کر دلیے کے طور پر بھی استعمال کیاجاتا ہے۔اُبلے ہوئے قینوا میں ٹھنڈا دودھ، شہد،میوے، بادام، اخروٹ اور فروٹ ڈال کر Morning cerealکی طرح بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
بغیر پکائے صحت بخش کھانا
قینوا کا یہ استعمال دنیا میں صحت بخش خوراک کے طور پر تیزی سے مقبول ہورہاہے اور روایتی طورپر طویل دورانیے کی روایتی cookingکے بغیر یا کم پکائے ہوئے کھانوں ککا ان کے قدرتی ذائقوں اور غذائیت کے ساتھ استعمال بڑھ رہا ہے۔ جس میں قینوا سرفہرست ہے۔ اس کے دو طریقے ہیں۔
(i قینوا سلاد
حسب ذائقہ اور موسم کے مطابق تازہ سلاد کاٹ کر اس میں اُبلا ہوا قینوا شامل کردیاجاتا ہے اور صرف لیموں نچوڑ کریا اپنی پسند کی Salad Dressing کے ساتھ،یہ ایک مکمل خوراک ہے جس میں کوئی روٹی یا چاول کی ضرورت نہیں ہوتی اور اسے مرد حضرات بھی آسانی سے بناسکتے ہیں اور آفس لنچ کے لیے بہترین ہے۔
(iiقینوا فروٹ سلاد
دنیا میں تیزی سے مقبو ل ہونے والا ایک فروٹ سلاد ہے جس میں سلاد اور مختلف پھلوں کو اکٹھا کاٹ لیا جاتا ہے جیسا کہ کھیرا،تر،گاجر،چقندر ،سیب، کیلا، آڑو، ناشپاتی،انگور،آم، پپیتا اور انناس وغیرہ شامل ہیں پھر ان کے اندر میوہ جات جیسے کشمش، بادام، اخروٹ اورپستہ وغیرہ شامل کرلئے جاتے ہیں۔اس آمیزہ میں اُبلا ہوا قینوا شامل کرنے سے ایک نہایت مزیدار قینوا فروٹ سلاد تیار ہوجاتا ہے جوکہ ایک مکمل بھرپور غذائیت والی ڈش ہے جوبطور کھانے کے یا Sweet Dishیا Side Dishکے طورپر استعمال ہوتی ہے۔
قینواکی سویٹ ڈش
پاکستان میں قینوا کا ایک بڑا استعمال قینوا کی کھیر ہے جس کو روایتی طریقے سے چاول والی کھیر کی طرح پکایاجاتا ہے اور چاول کی کھیر سے بھی زیادہ پسند کی جاتی ہے۔ قینوا کا حلوہ بھی سوجی کے حلوے کی طرح آسانی سے بنایاجاسکتا ہے۔
طریقہ کاشت
قینوا کی کاشت میرا ، ریتلی میرا اور کلراٹھی زمین پر 15اکتوبر سے 15نومبر تک کی جاتی ہے۔ 2-3ہل اور سہاگہ کے بعد زمین تیار کر لی جاتی ہے۔ اس کی کاشت کے لیے 2-3کلو گرام بیج فی ایکڑ درکار ہوتے ہے ۔بیج کو زمین میں کھیلیاں بنا کر (چوپہ) ہاتھ کی مدد سے لگایا جاتا ہے۔ کھیلیوں کے درمیان فاصلہ اڑھائی فٹ جبکہ پودوں کے درمیان فاصلہ آدھا فٹ رکھا جاتا ہے اور بیج کو تقریباً 1انچ گہرائی تک دبایا جاتا ہے قینوا کی فصل کو کھادیں NPK 50:20:20فی ایکڑ ضرورت ہوتی ہے۔ 2-3پانی کی ضرورت ہوتی ہے، جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے 2-3مرتبہ گوڈی کی ضرورت ہوتی ہے۔قینوا کی کٹائی مارچ کے آخر یا اپریل کے پہلے ہفتے میں کی جاتی ہے۔ اپریل تک قینوا 4سے6فٹ تک قد آور ہو جاتا ہے اور ایک سے دو دفعہ رنگ بدلتا ہے۔ جب اس کے پتے بھورے اور بیج ناخن سے نہ ٹوٹیں تو پودے کاٹ کر چھوٹے گٹھوں کی صورت میں زمین پر کھڑا کر دیں۔ 2-3دن تک فصل کو خشک کرلیں۔قینوا کو مکمل خشک ہونے پر گندم والے تھریشر جو کہ برسیم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے سے بیج نکالے جاسکتے ہیں کیونکہ اس کا بیج چھوٹا ہوتا ہے اس لئے باریک جالی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔
بیج کو محفوظ رکھنا
برداشت کے فورا بعد جو حصہ بیج کے لئے رکھنا ہو اس میں 9فیصد سے کم نمی ہونی چاہیے۔بیج کو اچھی طرح صاف کرکے” سپر بیگ“ میں محفوظ کرکے ہوا دار جگہ میں محفوظ کر لیا جائے۔ اس طریقے سے بیج کا اگاﺅ اگلے سال تک مکمل طور پر محفوظ رہتا ہے جبکہ کھانے یا مارکیٹ کے لئے فصل کو بھی اچھی طرح خشک کرکے ہی تھیلوں میں ہوادار جگہ پر سٹور کرناچاہیے۔
پاکستان میں تعارف
2009ءمیں سب سے پہلے قینوا کو متبادل فصلوں کی لیب ، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی طرف سے متعارف کروایا گیا تھا۔ مختلف وسائل سے تقریبا ً 153قینوا کی لائنیں موجود ہیں جس میں زیادہ تر USDAسے منگوائی گئی ہے۔ اس کی ایک نئی ورائٹی UAF Q-7پنجاب میں عمومی کاشت کے لیے منظور کر لی گئی ہے۔

Instant energy booster. Helps in restless sleep (insomia). Recommended for all ages. Helps in weight loss. Improves fertility and digestion. Strengthens immune system.

Helps in the control of diabetes, cholesterol, hypertension, arthritis, body pains and stomach disorders, improves health status & enhance immune system.

Animated Social Media Icons by Acurax Responsive Web Designing Company
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On PinterestVisit Us On Linkedin